Home / Islam / Daily Life / بچوں میں گھبراہٹ اور فوبیا

بچوں میں گھبراہٹ اور فوبیا

اکثر بچے کبھی نہ کبھی کسی وجہ سے ڈر جاتے ہیں ۔ نشوونما کے دوران   یہ معمول کی بات ہے۔ مثلاً چھوٹے بچے اپنی دیکھ  بھال کرنے والےافراد سے مانوس ہوجاتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے وہ ان سے الگ ہوجائیں تو بچے بہت پریشان ہوجاتے ہیں اور گھبرا جاتے ہیں۔ بہت سے بچے اندھیرے یا فرضی وجود  (جن بھوتوں)سے ڈرتے ہیں۔ یہ خوف عام طور پر بڑے ہونے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں اور بچوں کی زندگی یا ان کی نشوونما کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔ زیادہ تر بچے اسکول کے پہلے دن جیسے اہم واقعات کے بارے میں خوفزدہ ہوتے ہیں لیکن بعد میں یہ خوف ختم ہوجاتا ہے اور وہ اس نئی صورتحال کے عادی ہو کر اس سے لطف اندوز ہونے لگتے ہیں۔

 

نوجونوں  کا مزاج اکثر بدلتا رہتا ہے ۔ ان کی پریشانیوں کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں مثلاً وہ کیسے لگ رہے ہیں، دوسرے لوگ ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، عموماً  لوگوں سے ان کے تعلقات کیسے ہوتے  ہیں اور خصوصاً صنف مخالف کے ساتھ تعلقات کیسے  ہیں ۔ ان پریشانیوں کے بارے میں بات چیت کرکے ان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔  تاہم اگر یہ پریشانیاں بہت بڑھ جائیں تو  اور لوگ اس بات کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ اسکول میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کررہے، ان کا رویہ بدل گیا ہے یا وہ جسمانی طور پر ٹھیک نہیں ہیں۔

 

اگر کوئی بچہ یا نوجوان یہ محسوس کرے کہ پریشانی، گھبراہٹ یا خوف اس کی زندگی تباہ کررہے ہیں تو اسے فیملی ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

(Visited 111 times, 1 visits today)
0.00 avg. rating (0% score) - 0 votes

About Lubna Rasheed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*